محرابِ جاں

ہو شکر کیسے ادا لطفِ کبریائی کا

خدا نے شوق دیا ذمّہ⚠️ سرائی⚠️ کا

میں منتظر ہوں سدا رحمتِ خدائی کا

ملے گا حکم غلاموں سے مجھے رہائی کا

مرے خدا! ہے ترا نور ذرّے ذرّے میں

رواں ہے سکّہ دلوں پر تری خدائی کا

مَرا گُزر نہ کبھی اُن کی بے نگری سے ہو

جگہیں⚠️ ہے ذخم بہت زُہد و پارسائی کا

جو حرف کِن سے یہ پردے وجود میں آئے

سب تماشا خدا کی ہے خود نمائی کا

ترا صحیفہ⚠️ مکرّم ترا ہمی⚠️ نسخہ پارسا!

مرّخ⚠️ شوق ہے بے مثل نکتہ⚠️ دلربائی کا

معاملہ ہے یہ مخلوق کا عجب ساجدؔ

اِس اپنے خالقِ برحق سے آشنائی کا