محرابِ جاں

عالم میں سب ہے روشنی عالی جناب کی

تابقا⚠️ ہے اُن کی کرن آفتاب کی

پوری تمام دل کی مرے ہوں گی حسرتیں

کافی ہے اک نگاہ رسالت مآب کی

چاہیں وہ جس گھڑی بھریں دامن فقیر کا

بخشی⚠️ نبیؐ کے پاس ہے رحمت کے باب کی

تکوں⚠️ کی اُن کے اے خوشا بھولی ہوئی شفق⚠️

ماخوذ ہے اسی سے یہ رنگت گلاب کی

ہاں! چپکے⚠️ اُن کی رحمت و رافت کی داستاں

زاہد! سنا مجھے نہ یہ باتیں عذاب کی

پیکرِ مصطفیٰ کے ہے ظاہر خدا کی ذات

سب کچھ یہاں ہے بات یہاں کیا حجاب کی

ساجدؔ خدا نے بھر دیا تاروں میں کیا سرور

آواز جاں نواز ہے چنگ و رباب کی