محرابِ جاں

ہے مری جاں کا محراب بدلنا مشکل

دل سے اب یادِ نبیؐ کا ہے نکلنا مشکل

گر گیا اُن کی نگاہوں سے جو اک بار کوئی

پھر رو زیست⚠️ میں ہے اس کا سنبھلنا مشکل

جس کے دل میں بھی ہے اُترا ذرا اُسوۂ اک بار

اس کا پھر غیر کے سانچے میں ہے ڈھلنا مشکل

شاہِ عالم کا مخالف ہے خدا کا دشمن

ایسے مردود کا ہے پھولنا پھلنا مشکل

دل کی کلیاں ہیں جو شاداب بدفیضانِ نبیؐ

پہنچے درد کو ہے اُن کا مسلنا⚠️ مشکل

کوئی مشکل ہی نہیں ساتھ اگر رحمت ہے

راہ مشکل میں ہے رہبر کا پسلنا⚠️ مشکل

دل کے بازار میں سکّہ ہے شہِ دیں کا رواں

اور ساجدؔ کسی سکّے کا ہے چلنا مشکل