محرابِ جاں

خدا کے ساتھ ہے تنہا نہیں ہے

جدا حق سے نبیؐ اصلاً نہیں ہے

برحق⚠️ ہے دل شیدا قبسِ⚠️ رحمت

یہ صحرا⚠️ آباد ہے صحرا قبسِ⚠️ نہیں ہے

نشاں ہیں وہ پہنچنے کا خدا تک

بجز اُن کے کوئی رستا نہیں ہے

نہایت محترم سب انبیاء ہیں

کوئی احمد کا ہم پایہ نہیں ہے

قیام اُس کا رکوع اُس کا نہ سجدہ

کہ جس کا قبلہ ہی سیدھا نہیں ہے

جہاں سارا ہے اُن کے زیرِ سایہ

شہے⚠️ عالم کا صحر⚠️ سایہ نہیں ہے

مرا شوقِ شفا⚠️ تقلّد⚠️ ہے ساجدؔ

ابھی ارماں ہوا پورا نہیں ہے