محرابِ جاں

آباد دل نبیؐ کی محبت سے مر⚠️ نہیں

ایسے میں شام شام و سحر بھی مر⚠️ نہیں

لطفِ نظر کا اُن کے نوازا ہوا فقیر

کب عارفِ خدا نہیں کب دیدہ ور نہیں

اُن کا خیال اُن کا تصوّر نصیب ہو

ہم کیا کریں کہ فکر کے وہ بال و پر نہیں

سنتے قریب و دور سے لاریب آپ ہیں

اپنے غلام کی کہاں اُن کو خبر نہیں

آتی ہے وہی حق⚠️ اُن کی نظر میں ہے

خیرالبشر کے ٹوٹی⚠️ برابر بشر نہیں

وہ پوریا⚠️ نشیں ہیں عالم کے تاجور

کوئی جہاں میں اُن سا شہے⚠️ نامور نہیں

ساجدؔ غلامِ آپ کا دائم ہے کامراں

آباد و شاد آپ کا نقشِ مر⚠️ نہیں