محرابِ جاں

جو شرق و غرب سے آئے ہیں قافلے سارے

نبیؐ کے شہرِ مقدّس میں آ ملے سارے

خدا کی رحمت و قدرت کا مظہرِ اعظم

ہیں منتہی⚠️ اسی پیکر پہ سلسلے سارے

گرہ کشائی کرے کی نگاہِ لطفِ کریم

ہیں اُن کے سامنے میرے معاملے سارے

یہ اُن کا لطف ہے اُن کی ہی مہربانی ہے

جو غم سے کرتا ہے یوں دل مقابلے سارے

خدا کا وعدہ ہے قرآن کی خلافت کا

خدا کی سمت سے آئے مرا⚠️ سلے سارے

نبیؐ کے آنے پہ انعام قدر قدرا اُنہے⚠️

جہاں کفر کے ایوان گھنٹے⚠️ پلے سارے

بفضلِ حق میرا دل اب بھی شاد ہے ساجدؔ

ملیں گے حشر کے دن اور بھی پلے سارے