محرابِ جاں

شکرِ حق وا کرم کا باب ہوا

ختم اب دل کا اضطراب ہوا

دیکھ کر روشنی رُخِ اُن کی

ماہِ کامل بھی آب آب ہوا

بس محبّی⚠️ یادِ اُن کی جس دل میں

جلوہ افشاں وہ ماہتاب ہوا

بسکہ منزل پہ بے مکاں پہنچا

جب کوئی اُن کے ہرکارہ⚠️ ہوا

دوست اُن کا بہت ہوا شاداں

دشمن اُن کا بہت خراب ہوا

وہ بشر وہی جس پہ آتی تھی

جسمِ نوری وہ لاجواب ہوا

راستا اُن کا راہِ حق ساجدؔ

رہبرِ اُن کا کامیاب ہوا