← محرابِ جاں
پیکر وہ بے مثال سراپائے نور ہے
شکلِ بشر سے ذاتِ خدا کا ظہور ہے
عرفانِ حق کی مجھ کو سعادت نصیب ہو
یہ التجا حبیبِ خدا کے حضور ہے
یا رب! مجھے بھی فیضِ حضوری کا ہو عطا
ایوانِ مصطفیٰ سے غلام اُن کا دور ہے
کافی ہے اک نظر اسے مانا یہ اُمّتی
آلودہ معصیت سے ہے اور پُر قصور ہے
بن جائے بات گر ہو کرم اُن کا گو بہت
دشوار راہِ شوق ہے دل نا صبور ہے
فیضان سب ہے اُن کے درود و سلام کا
دل میں مرے جو رات دن لطف و سرور ہے
ہر شاخسار ہر گھڑی ساجدؔ ہے محوِ ذکر
مشغول حمد و نعت ہجومِ طیور ہے