محرابِ جاں

نبیؐ کے وسیلے سے حق مل گیا ہے

عیاں رازِ حق کا اُنہی سے ہوا ہے

اُنہی سے ہے کرسی و عرشِ معلّیٰ

اُنہی میں حقیقت کا جلوہ سمایا⚠️ ہے

وراء الوریٰ ذاتِ مطلق کا پرتو

وہ جانِ دو عالم حقیقت نما ہے

وہ مظہر ہیں ذاتِ خدا کے سراسر

خدا میں ہیں وہ اور اُن میں خدا ہے

ہے نامِ محمدؐ مداوا غموں کا

نبیؐ ذاتِ ظلمت میں روشن دیا ہے

جہاں میں اُنہی کے ہیں دم سے بہاریں

اُنہی کی یہ سب روشنی جا بجا ہے

نہیں سہل ساجدؔ محمدؐ کا عرفان

بہت مشکل اس کی گشادِ گرہ ہے