← محرابِ جاں
اُونچا ہے ہر اک در سے دروازہ نبوّت کا
آفاق میں گونجا ہے آوازہ نبوّت کا
قائم ہے نظام اس کا اللہ کی قدرت سے
مضبوط نہایت ہے شیرازہ نبوّت کا
سرسبز سدا شاخیں شاداب سدا سمجھے⚠️
ہر فصل میں یہ گلشن ہے تازہ نبوّت کا
ہے ذات کے جلوے سے حیران جہاں سارا
کیا کوئی لگائے گا اندازہ نبوّت کا
دل والے سمجھتے ہیں الفت کی زباں شیریں
خوش بخت ہی سنتے ہیں آوازہ نبوّت کا
اللہ کرے ساجدؔ عمر اس پہ کٹے ساری
ہو پیشِ نظر دائم دروازہ نبوّت کا