محرابِ جاں

تسکین ہے جو یادِ نبیؐ کے شمار میں

ہرگز نہیں نشاط وہ فصلِ بہار میں

کیسے کریں گے اُن کی عنایات کا حساب

اُن کی نوازشیں نہیں آئیں شمار میں

ہیں جمع اُس چمن میں بہاریں جہاں کی

سب آ گئی سمٹ کے خوشی اُس دیار میں

اُن کا خیال اُن کا تصوّر انیسِ جاں

شامل ہے اُن کا لطف سکون و قرار میں

وہ ایک آن میں کریں مٹّی بھی کیمیا

آ جائے جب خیالِ شہِ نامدار میں

آتے ہیں وہ مدد کو تائیدِ کردگار

جو بھی پکارتا ہے اُنہیں اضطرار میں

ساجدؔ ہے بے مثال خدا کا حبیبِ پاک

وہ جا منتخب ہے خلقتِ پروردگار میں