محرابِ جاں

صبیحِ ربِّ جہاں مظہرِ حقائق ہیں

بھرم کی دھل میں حق کی کتابِ ناطق ہیں

وجودِ سرورِ عالم کا وصفِ کونین

وہ کائنات کی جاں روشنِ خلائق ہیں

نبی کے شہر کے دن رات ہیں جمال افروز

مزاجِ اہلِ محبّت کے یہ موافق ہیں

تصوّرِ رُخِ محبوب اُن کا مشغلِ مام

خدائے پاک کے دیدار کے جو شائق ہیں

بھیجتے ہیں درود آپ پر محبّت سے

وہ اپنے قول کے سچّے ہیں دل کے صادق ہیں

جو چاہتے ہیں اُنہیں دل سے سرفراز ہیں وہ

ہوئے ہیں اُن سے جو منسوب سب پہ فائق ہیں

سلام کرتے ہیں ساجدؔ اُنہیں فرشتے بھی

اُنہی کے در پہ پڑے بندگانِ خالق ہیں