← محرابِ جاں
مرا قبلۂ جاں حبیبِ خدا ہیں
خوشا جاں ایماں حبیبِ خدا ہیں
معارف کے پوشیدہ دشوار کعبے
کئے جس نے آساں حبیبِ خدا ہیں
سلجھتی ہیں سب اُلجھنیں اُن کے دم سے
غمِ دل کا درماں حبیبِ خدا ہیں
خزانے ہیں وہ رحمتِ دو جہاں کا
سعادت کا ساماں حبیبِ خدا ہیں
خدائے احد کا وہ مظہر ہیں اکمل
جہاں جسم اور جاں حبیبِ خدا ہیں
دو عالم کی تخلیق کی داستاں کا
دلآویز عنواں حبیبِ خدا ہیں
عدو کا نہیں کوئی ساجدؔ ہمیں ڈر
ہمارے نگہباں حبیبِ خدا ہیں