← محرابِ جاں
چھایا ہے شرق و غرب میں میرے حضور کا
اللہ کے جمال کے دلکش ظہور کا
بٹتا ہے جسم دل تو زیارت نہیں محال
ہے بے نقاب جلوۂ حقیقت کے نور کا
رحمت ہے بے حساب خدائے کریم کی
اتنا بھی غم نہ کیجیے جرم و قصور کا
جلوۂ رُخِ رسول کا بس چاہیے مجھے
دل میں نہیں خیال کچھ اور قصور کا
دیتی ہے اور ہی مزا یادِ رسولِ پاک
تعجّب ہے ذکرِ نبی کے سرور کا
سنتے ہیں وہ فغاں مری نزدیک و دُور سے
کچھ فرق ہی نہیں وہاں نزدیک و دور کا
ساجدؔ کریں گے میری شفاعت مرے حضور
کھٹکا نہیں ذرا مجھے یومِ نشور کا