← محرابِ جاں
کیوں نہ عالم ہو اُن کا شیدائی
ہے خداداد اُن کی زیبائی
خوب ہے اُن کی جلوہ آرائی
ایک صورت کے سب تماشائی
اُن کے جلووں کی سب ہے رعنائی
حسنِ گلشن جمالِ صحرائی
ایک اُن کا خیال ہو دل میں
یاد اُن کی ہو اور تنہائی
روح سے روح کا ہے بعد کہاں
ایک ہے روحِ گل کی دارائی⚠️
مُل جہاں پر ہے اُن کو فوقیت
اُن کی آفاق میں ہے بالائی
ہے زمینوں اور آسمانوں پر
ساجدؔ اُن کی عجب پذیرائی