← محرابِ جاں
شاہ آئینہ ہے قرآں کے سی پاروں کا
نور ہے مظہرِ حق آپ کے رخساروں کا
بخشتے⚠️ خوبی ہے دل حاشیہ برداروں کا
جنّت ہوتا ہے ٹھکانا⚠️ اُن کے طلب گاروں کا
آپ کے در پہ بھرے جاتے ہیں داماں تھی⚠️
اور پلٹا ہی نہیں کوئی تہی گاروں کا
کون احوال کی پرسش مرے یوں کرتا ہے
کب ہے یوں بار اُٹھاتا کوئی ناداروں کا
اُن کی امداد کو آئیں گے سرِ محشر بھی
حال جب سخت بُرا ہو گا یہ کاروں کا
زندگیِ خلد کی حاصل ہو مجھے دنیا میں
سایہ مل جائے اگر شاہ کی دیواروں کا
میرے سرکار کا ہے ذکر مداوا ساجدؔ
عالمِ کون و مکاں کے سبھی آزاروں کا