← محرابِ جاں
دیکھوں گا نور کب میں رُخِ شہریار کا
دل سے پٹے گا کب مرے غمِ انتظار کا
چھیڑے بھی ذکر کوئی سکون و قرار کا
غمِ رسولِ پاک کے لیل و نہار کا
ہوتا ہے زادِ راہ بہم ایک آن میں
ہوتا ہے جب کرم شمعِ والا تبار کا
لیتے ہیں آپ میری خبر اضطراب میں
کرتے ہیں وہ علاج مرے حالِ زار کا
اک اک رہنوار⚠️ کی تصویرِ یاد ہے
نقشہ بسا ہے دل میں نبی کے دیار کا
لے جائے گا حضور کی خدمت میں ایک دن
مجھ کو ضرور کریے⚠️ ذرا بار بار کا
مرے حضور! آپ ہی ساجدؔ کے ہیں اُنیس
ہے اور کون آپ کے اس جاں نثار کا