محرابِ جاں

اُن کو خبر ہے میرے دلِ پُر گداز کی

صرف اُن سے بات ہے مری راز و نیاز کی

یا رب! درود میرے لبوں پر ہو رات دن

معراجِ جاں ہو مجھے نعمتِ نماز کی

اصلی نظر ہے حُسنِ حقیقت پہ ہر گھڑی

لاریب حق نما ہے یہ صورت مجاز کی

دل کو فضا مکاں کی وفیقِ⚠️ حق سے ہے

ہے لامکاں پر نظر اُس حقِ طراز کی

اک ہی نظر میں سارے معارف کے بیاں

کھولی گرہ اُنہوں نے حقیقت کے راز کی

منہ اُس طرف تمام خزانوں کے کھل گئے

دس سُت⚠️ ہے نگاہ مرے چارہ ساز کی

ساجدؔ بڑی خوشی سے بسر ہو رہے ہیں دن

رحمت ہے مجھ پہ خواجۂ مکّیں⚠️ نواز کی