نور و سرور

بنامِ شاہِ رسلؐ ساز اُٹھا محبت کا

سرور و کیف میں نغمۂ ثنا محبت کا

ہر ایک شاخِ خزاں دیدہ وجد میں آئے

لگا کے نعرے وہ طوفاں اُٹھا محبت کا

نبیؐ کی یادِ مسرّت کا ایک دفتر ہے

خوشی کا تذکرہ ہے ماجرا محبت کا

ہر اک زباں پہ ہو سُرخی فسانۂ حق کی

جہاں میں عام ہو رنگِ حنا محبت کا

بفیضِ شوق ہیں سرشار میرے شام و سحر

عجیب کیف ہے صلِ علیٰ محبت کا

عزیز تر ہے زمانے کی عیش و راحت سے

مجھے جو درد ہے بخشا ہُوا محبت کا

نبیؐ کی نعت میں ساجد مگن ہے شام و سحر

ہے خوش نصیب یہ نغمۂ سرا محبت کا