← نور و سرور
دل ہے تاریک، مرا روشنی والے خواجہؒ!
بھیجیے میری طرف نور کے ہالے خواجہؒ!
بھر دیے لُطف نے جتنے بھی تھے دامن
تشنہ کاموں نے پیئے بھر کے پیالے خواجہؒ!
دیتے خیرات فقیرؐ آپؐ کے ہیں شاہوں کو
ہیں گدا آپؐ کے دُنیا سے نرالے خواجہؒ!
آپؐ کے خواص نوازش سے طلب گار ہوں میں
دیں اِسی سے مجھے دو چار نوالے خواجہؒ!
کب سے ہے جان مری بندِ حوادث میں اسیر
کھولیے دل پہ پڑے آپؓ نی تالے خواجہؒ! ⚠️ [آپؓ نی: شاید "آپؒ کے"]
بخشوائیں گے مجھے آپؒ ہی روزِ محشر
آپؒ سنتے ہیں دلِ زار کے نالے خواجہؒ!
جانِ ساجد کی غمِ دہر سے پائے گی نجات
اپنا اللہ فقیر اِس کو بنالے خواجہؒ!