نور و سرور

گدائے شہرِ ہُوا شہریار، صلِّ علیٰ

بفیضِ صاحبِ عزّ و وقار، صلِّ علیٰ

نبیؐ کے ذکر سے حاصل ہے جان کو تسکیں

ہے اُن کی یاد سے دل کو قرار، صلِّ علیٰ

نوازشات کی حد ہے نہ حساب کوئی

ہے اُن کا لطف و کرم بے شمار، صلِّ علیٰ

اُنہی کے دم سے ہے گلشن کا حُسن و زیبائی

اُنہی سے دل ہوئے باغ و بہار، صلِّ علیٰ

وہ سربسر ہیں خدائے کریم کا احسان

تمام رحمتِ پروردگار، صلِّ علیٰ

جنابِ شاہِ رسلؐ پر گھڑی ہو صلوٰۃ

سلام آپؐ پہ ہو بار بار، صلِّ علیٰ

تجھے ضرور وہ درؐ پر بلائیں گے ساجد

نہیں فضول ترا انتظار، صلِّ علیٰ