نور و سرور

حُسنِ عالم ہیں حق کا نشاں آپؐ ہیں

نُورِ یزداں ہیں رُوحِ جہاں آپؐ ہیں

ایک عالم ہے سرشاریوں کا وہاں

مستیوں کا جہاں ہے جہاں آپؐ ہیں

میرے خواجہؒ! نگاہِ کرم اِس طرف

میرے مولیٰ! مسرّتِ جاں آپؐ ہیں

راہِ منزل منور ہوئی آپؐ سے

جلوۂ حق ہے جِس سے عیاں آپؐ ہیں

ہیں حسیں و حسنِ پھول جِس باغ کے

اِس کی فصلِ گُلِ جاوداں آپؐ ہیں

جبرئیلِ امیں ہے فقیرِ آپؐ کا

حور و غلماں کے محبوبِ جاں آپؐ ہیں

آپؐ کا ذکر ساجد کی جانِ سخن

اِس کا موضوعِ فکر و بیاں آپؐ ہیں