شوقِ فراواں

دیکھا فلک نے ماہ کب اس آب و تاب کا

یہ چہرہ ہے جنابِ رسالت مآب کا

مذہب مِرا ہے سیّدِ عالم کی پیروی

عنوان ہیں آپؐ حُسنِ عمل کی کتاب کا

معراج کو بجسم بشر مصطفیٰؐ گئے

فرمان ہے خدا کا نہیں قصّہ خواب کا

نور خدا میں غرق ہے اللہ کا فقیر

پہلا سبق فنا ہے والا کے نصاب کا

سلطانِ دیں کی یاد سے دل پُر بہار ہے

رہتا ہے جادواں کھلا زرخیز اس گلاب کا

سجدہ درود چاہیے بے لوث و بے غرض

شامل نہو خیال امیدِ ثواب کا

ساجدؔ خدا کے اذن سے آقا ہیں دیگر

اندیشہ دل میں کیونکہ ہو روزِ حساب کا