شوقِ فراواں

ہیّ دیں کی زیارت کے لئے مضطر ہے دم میرا

اِسی کرب مسلسل سے ہے دل سیّد الم میرا

ہے شامِ زندگی ڈھلنے کو منزل ہے ابھی آگے

بہت رفتار میں پیچھے ہے رہبارِ قلم میرا

ذر مُوئے پہ تجھکو ملنے کا اِذن ہو گا

رہے گا کوئی بھی ارمان نہ دل میں کوئی غم میرا

عطا ہو دل، تصلّی خدا جس میں ہو نظر آئے

اِسی سے جاں جہاں آئے اِسے اِسی سے دم میرا

مجھے سب کچھ ملا ہے آپؐ کے دستِ توسّل سے

نہیں مجھ برج آپؐ کے مونِس کوئی حق کی قسم میرا

ذرِ شاہِ رُسلؐ کی خاکِ پاک اکسیر اعظم ہے

بغیں شاہِ رنگب⚠️ مہز روشنِ ذرِ یم میرا

ہیّ بغداد کا خطِ خاطی ذوقِ غلامی رکھتا ہے

اِسی باعث زمیں میں اُس کی ساجدؔ ہے قدم میرا