شوقِ فراواں

اُن کی چشمِ مہرباں سے دل ستارا ہو گیا

بحر میں گرداب و طوفان بھی کنارا ہو گیا

ہو گئی پہچان جس کو سیّدِ لولاک کی

رازِ اُس پر ذاتِ حق کا آشکارا ہو گیا

اب غمِ دوراں کی کوئی بات ہونٹوں پر نہیں

جب کہ محبوبِ خدا مونِس ہمارا ہو گیا

شاہِ عالم کے کرم سے مشکلیں حل ہو گئیں

بند دروازوں کے کھُلنے کا اشارا ہو گیا

زندگی میں اب نہیں کوئی سختی مجھے

اب ولائے شاہ میں ہر غم گوارا ہو گیا

التفاتِ حق کا ہم سے شکر کیسے ادا

اک توجّہِ حق سے زخمِ جاں کا چارہ ہو گیا

روندوں میں رات دن کہتے ہیں ساجدؔ آج کل

ہنگلِ نعتِ مصطفیٰؐ دل کا سہارا ہو گیا