شوقِ فراواں

جو ہوا دل سے فدائے مصطفیٰ

اُس پہ راضی ہے خدائے مصطفیٰ

سیم و زر لعل و گوہر اُن پر فدا

جان و ایمان ہیں برائے مصطفیٰ

وہ مکاں و لامکاں کے ہیں سفیر

ماورائے فکرِ⚠️ جائے مصطفیٰ

چشمِ ظاہر سے خدا کی ذات کو

کب کوئی دیکھے سوائے مصطفیٰ

فاطمہ مولا علی سبطینِ پاک

تھے بھی زیرِ ردائے مصطفیٰ

ہے حُسن اللہ کا قولِ نبی

حق کی منشا ہے رضائے مصطفیٰ

دل میں ساجدؔ اک اُنہی کا ہو خیال

کچھ نہ لکھوں بجز ثنائے مصطفیٰ