شوقِ فراواں

ہے خیالِ شہِؐ دیں راہنمائی کرتا

گریہ شب ہے دل و جاں کی صفائی کرتا

آپؐ کا نور ہے جس پہلوئے مومن میں نہاں

اُس پہ سر شرمسارؐ⚠️ کہاں چشمِ نمائی کرتا

دل کو جو حسرت و حرماں کا بناتا ہے امیر

دور دل سے ہے وہی درد جدائی کرتا

حق نے عالم کو کیا تابعِ فرمانِ نبیؐ

حُکمِ حق سے ہے نبیؐ کار روائی کرتا

وقت کے غوثؒ کے سر پر ہے نبیؐ کا سایہ

اُن کے ہے اذن سے وہ عقدہ کشائی کرتا

سینہ غوثؒ ہے جلوتِ سر غوثؒ سلطانِ رُسل

اُنس و جاں کے وہ دلوں پر ہے خدائی کرتا

کاسبِ شاہِ ولایتؒ ہوئے عبدالقادرؒ

جن کی ساجدؔ ہے جہاں مدح سرائی کرتا