شوقِ فراواں

سیدؐ کونین سے ہم کو محبت ہو تو ہو

اس طرف وہ ملتفت ہوں یہ عنایت ہو تو ہو

جلوہ فرما ہو اُن پر کا نور رحمت ہو تو ہو

قوم پر سایہ کناں دامان حضرتؐ ہو تو ہو

ہم اسیرانِ الم ہیں معصیت آلود ہیں

دل کو خوشندی⚠️ مییسرؐ گر شفاعت ہو تو ہو

اک یہی شاہؐ رسل سے اپنی نسبت کا نشاں

چاند کی صورت فروزاں داغ الفت ہو تو ہو

اک اشارہ آپؐ کی رحمت کا ہے کافی ہمیں

ایک ہلکی سی نظر سے دل کو راحت ہو تو ہو

کس قدر آفاق میں ہے حال ابتر قوم کا

آپؐ کے ارشاد پر کافور شامت ہو تو ہو

کوئی مشکل ہی نہیں ساجدؔ سنورنا بخت کا

شاہؐ کے دربار میں منظور مدحت ہو تو ہو