شوقِ فراواں

اس قدر روشن ہمارے بخت کا کوکب ہے

دل ہمارا بزم گاہ مصطفیؐ یارب! ہے

جس قدر جلدی ہو ہم پہنچیں نبیؐ کے شہر میں

گل سب بھرنا ہے جو زاد سفر کا اب ہے

بفضل اللہ بایشاء⚠️ مشکلہ⚠️ عزم دل میں

جب ہو ایمائے مشیتؐ عزم دل میں تب ہے

جس کو چاہنے حق تعالیٰ نور دے وہ بخشش

غیر بدل مسلماں دل ہمارا دل مسلم کب ہے

سرور عالم ہمارے پیشوا و دیگر

اُن کی چشم لطف سے حالات اچھے سب ہے

سیدؔ⚠️ عالم کی رحمت سے مقدر کھل گئے

بسکہ جو تارے روشن تھے وہ روز و شب ہے

غوثِ⚠️ اعظم شاہ گیلانی کا ساجدؔ فیض ہے

کھل گئے عقدے ہمارے دل کے سب مطلب ہے