شوقِ فراواں

نبیؐ کی خاک در کے ذرے انجم بنیں نکلی⚠️

خدف ریزے بھی اُن کی رہ کے کیا ذرِّ زمیں نکلی

گدلایاں نبیؐ پھرتے ہیں گلیوں میں غبار آلود

انہیں دیکھا چشمِ جاناں جو تو کری نہیں نکلی

اُتر جاتی ہے دل میں ہر حدیثِ آقائے عالم کی

ریلی اور شیریں اُن سے گویا آنکھیں⚠️ نکلی

پس از مست مدت شگاف آئے پگ⚠️ کبہ⚠️ قبروں میں

چمکے ماہ اور اختر گُلی زیرِ زمیں نکلی

بہت سی آرزووں کے کھلے شُنع⚠️ بعد اللہ

مگر ارماں نبیؐ کی دید کے دل سے نہیں نکلی

بہت اُلجھے ہوئے تھے کامِ سلجھے چشمِ رحمت سے

چُھنتے تھے پاؤں دلدل سے بفضلِ شاہؐ دیں نکلی

ہمیں ساجدؔ نظر آئے بہت کم طالبِ مولیٰ

یہ اہلِ زہد سارے طالبِ خلدِ بریں نکلی