← شوقِ فراواں
شاہؐ رسلؐ کی یاد دل میں بسا چکے
انعامِ خاصِ ذاتِ خدا سے وہ پا چکے
نجوِ مصطفیٰؐ کے نصیب کے معرفت ہوئی
نجوِ آپؐ کے گزند نصیب میں آ چکے
اُن کو نہیں ہے ابہرن کی تیرگی کا خوف
دل میں جو شمعِ داغِ محبت جلا چکے
اُن کے دیارِ دل میں ہیں کیا کیا تجلیاں
اُس بارگاہ کا جو تصور جما چکے
بخشیشِ خدا نے ان کو عجب سرفرازیاں
سر اپنے حق کے راتے میں جو چلا چکے
اب پوچھنے انہی کے غلاموں سے اُن کی بات
وحدت کا راز سیّدؐ عالم بتا چکے
ساجدؔ وظیفہ جب سے ہمارا درود ہے
دردِ و الم سے دامنِ دل ہم بچا چکے