شوقِ فراواں

زندگانی کا طرب خیز مرا یاد رہے

اکثر اوقات اگر صلیٰؐ یاد رہے

مستیٔ و شوقِ فراواں کی عطا یاد رہے

اُن سے کہنا مجھے کب اِذنِ حضوری ہو گا

میرا پیغام تجھے یاد صبا! یاد رہے

دل ہو سرمست نظرِ تابعِ فرمانِ نبیؐ

ہم کو ہر قولِ شہرِؐ ارض و سما یاد رہے

اہلِ صفا جو شہدِ حسن⚠️ کے شیدائی تھے

وہ ہمیں مجمعِ مردوانِ صفا یاد رہے

جب سنائی دے کوئی اذاں مسجد سے

آپؐ کے خاص مؤذن کی صدا یاد رہے

پیروی سیّدِؐ لولاک کی سدا دائم

زندگی مجھ بھر سیّدِ⚠️ شاہِ ہدیٰ⚠️ یاد رہے