شوقِ فراواں

نامِ آپؐ کا علاج دل زار ہو گیا

میرا نصیبِ شکر ہے بیدار ہو گیا

بُلکی سی اُن کی ایک نظر کام کرگئی

اک آن میں سقینہ⚠️ مرا پار ہو گیا

اُس کو نصیب ہو گئی پرواز عرش کی

جو کیسے⚠️ نبیؐ کا گرفتار ہو گیا

شاہِ رسلؐ کی بزم میں بیٹھا جو ایک پَل

جاہل تمامِ دفتر اسرار ہو گیا

اک جرمِ جس سے ساغرِ عرفاں نکل لیا

اللہ! دو جہاں میں وہ سرشار ہو گیا

بے آب و بے گیاہ تھا یہ پیرب⚠️ کا جو دیار

آمد پہ اُن کی خلد کا گلزار ہو گیا

ساجدؔ بلالؑ نام کا اک عام سا غلام

فیضِ نبیؐ سے قوم کا سردار ہو گیا