شوقِ فراواں

نہیں اندیشہ رہن کا نہ رہ کا نہ خرم کا

خدا کا شکر ہے ہم پر کرمِ شاہِ عالم کا

توجہ سے سنا کرتے ہو آقاؐ سب کی روداداں

کریں ہم ذکر اور بھی اُس کا مدام برہم⚠️ کا

خداوند! فقط تو معطی مطلق ہے عالم میں

محمدؐ جانتے ہیں سنجِ⚠️ تیرے لطف پیغم⚠️ کا

حقیقِ مصطفیٰؐ پہلو میں میرے ہو دل بنا

نہیں ہے شوقِ دل براور⚠️ ساغرِ⚠️ عالم کا

خدا کے نام کے پہلو میں نامِ سیّدؐ دوراں

خالصِ کا وسیلہ جو بنا تھا نوحؑ و آدمؑ کا

شہرِ اللہ کی خاکِ در کے ذرے جو پرتو تھا

خزانہ تھا جو شہرتِ یافتہ دنیا میں حاتمؑ کا

کبھی کعبہ کبھی بھی بھی ہوتے نگاہوں میں

یہی دراماں فقط ساجدؔ ہے مرے دیدہ نم کا