← شوقِ فراواں
در شہرِؐ دیں کا نہ چھوڑیں ہم پہ یہ شیمِر⚠️ ہے
ریچے⚠️ بیوستہ سدا شاخِ شجر کہتی ہے
جو بھی نظارہ ہے آئینہ ہے تمام حیرت ہے
نور ہی نور جہاں دل کی نظر کہتی ہے
راز وحدت کا کُھلا ہے جس سے ہیں وہ شاداں
ٹونپتے⚠️ کیسے ہیں ہواؤ بل⚠️ باو⚠️ گر کہتی ہے
اُن کی اُلفت سے مجھے سبرا وصل نصیب
ہر نواز⚠️ کچھ بھی ہو معمور اثر⚠️ کہتی ہے
حق نے بخشی جو فضیلت اسے گل کل⚠️ عالم پر
حق کا انعام ہے تقدیرِ بشر کہتی ہے
صورتِ سیّدِؐ لولاک ہے بے صورت سے
عارفِ گولڑہ کی کلکبِ⚠️ گھر کہتی ہے
عبدہِ سے ہے یہ عیاں عبداً⚠️ ہو نہیں نہیں
ہے غلط اِس کے سوا عقل اگر کہتی ہے