شوقِ فراواں

وہ صورتِ حق نشانِ خدا احمدِ مختار

ہیں بادیۂ⚠️ ارض و سما احمدِ مختار

سردارِ رُسل صلِّ علی احمدِ مختار

چاہیں تو رکے تیزِ قضا احمدِ مختار

حق نے انہیں بخشی ہیں خزانوں کی کلیدیں

کرتے ہیں عطا تاج و قبا احمدِ مختار

آفاق میں ہے جن کی ضیا فرش سے تا عرش

بے مثل ہیں وہ مہرِ بڑی⚠️ احمدِ مختار

ممکن ہے بغیر اُن کے کہاں معرفتِ ذات

اللہ کا دیتے ہیں پتا احمدِ مختار

سینوں میں اُتر جاتے ہیں انوارِ طریقات⚠️

جب زور کریں رنج و بلا احمدِ مختار

ساجدؔ غم و آلام کی اِس دھوپ میں صد شکر

ہیں سایۂ کنتاں⚠️ سیّدنا احمدِ مختار