شوقِ فراواں

رہبر و جو ہٹ⚠️ گئے ہیں رہ پٹھتن⚠️ سے دُور

رہتے ہیں زیست کی وہ بہارِ چمن سے دُور

جو محوِ نور مصطفیٰ ہیں نور ہیں تمام

گنتے ہیں اُن کے لیل و نہار اہرمن سے دُور

ہے روضۂ رسول پہ جن کی نظر جمی

محفوظ ہیں وہ گردشِ چرخِ کہن سے دُور

کیا ہے بھیس⚠️ خبر کہ نبی سے عیاں ہے حق

جن کی نظر میں حسن سمن ہے سمن سے دُور

شاہِ جہاں کا پاک تصوّر ہو رات دن

ہرگز نہ ہو خیال حسین و حسن سے دُور

جس نے بھی ذکرِ صلِّ علیٰ حرزِ جاں کیا

وہ زندگی بھر کرے رنج و محن سے دُور

ساجدؔ مرے خیال کو ہیں قربتیں نصیب

شہرِ رسول گرچہ ہے میرے وطن سے دُور