شوقِ فراواں

ہے درودوں کا جواب خاص جو بادی کا خط

ہے غمِ جاں سے خلاصی اور آزادی کا خط

بلا ادب کے نامِ ناسے⚠️ لطف کے آئیں سدا

بے ادب کے واسطے ہے رنج و ناشادی کا خط

کوئی بھی محروم اِس درسِ ہدایت سے نہیں

شرق سے تا غرب پہنچا سب کو ہے بادی⚠️ کا خط

جس نے بوئے خار وہ کاٹے گا فصلِ خار⚠️ ہی

فرو⚠️ اعمال ہے گویا ہے بربادی کا خط

لہلہا اُٹھے بہارِ حسن سے ویران دل

یادِ فصلِ گل ہے بلبل کی شمیں⚠️ وادی کا خط

سرخوشی کی ہے نوید جاں فزا اُن کا خیال

یادِ محبوبِ خدا ہے دل کی آبادی کا خط

جس میں ہے تحریر ساجدؔ کے دلِ مضطر کا حال

شاہ کے ہے نامِ⚠️ اُن کے ایک فریادی کا خط