شوقِ فراواں

پہلوئے دل میں نہیں زنہار دُور کی طمع

ہے فقط پیوستِ جاں درگاہِ سرور کی طمع

خاکِ پاکِ در کی خوشبو سے معطّر جو ہوا

اُس کے دل میں بس گئی شہرِ منوّر کی طمع

مست رہتا ہے جو طوفِ روضۂ سرکار میں

کس قدر ہے کیف آگیں اُس کبوتر کی طمع

ذکرِ اُن کا یادِ اُن کی اور خیال اُن کا سدا

ساتھ ہی دل میں ہے میرے اُن کے ساغر کی طمع

اے خدا! ہم کو عطا ہو دولتِ حبِّ رسول

روح فرسا ہے نہایت گوہر و زر کی طمع

اِس طمع سے بڑھ کے کوئی آرزو اچھی نہیں

حضرتِ شاہِ رسل محبوبِ داور کی طمع

منزلِ مقصود ساجدؔ ہے بہت نزدیک اُسے

جس کو رہتی ہے سدا سرکار کے در کی طمع