شوقِ فراواں

ہے جتا⚠️ کے برگ میں رنگِ شہادت نصف نصف

سبز زہر⚠️ اور سرخ خوں دونوں کی رنگت نصف نصف

خلد سے آیا تھا شمشیر اور شمشیر⚠️ کا لباس

عید کے دن امر و اختر⚠️ کی نسبت نصف نصف

نصف سے اُوپر حسن اور نصف سے پنجے⚠️ حسین

جسمِ شہِ⚠️ سے دو نواسوں کی شہادت نصف نصف

تھے حسینؓ ابنِ علی مسکیں حسن تھے پُر شکوہ

تھی فطیراں⚠️ کا شاہانہ طبیعت نصف نصف

کربلا میں شہِ حسین اور ہیں مدینے میں حسن

بٹ گیا سلطنتیں⚠️ میں فیضِ امامت نصف نصف

دونوں درگاہوں سے بھرتا ہوں میں دامانِ مراد

مجھ کو ہوتی ہے عطا رحمت کی دولت نصف نصف

اک نظر سے دیکھتا ہوں اُن کی آلِ پاک کو

دل میں ہے ساجدؔ مرے اُن کی عقیدت نصف نصف