← شوقِ فراواں
با ادب ہوئے حرم انہیں خوش اطوار قدم
تیز ہرگز نہ ہوں ہوں تو ہوشیار قدم
سبزِ⚠️ گنبد ہمیں جب سامنے آتا ہے نظر
شرم سے اُٹھتے نہیں ہیں یہ گنہگار قدم
آپؐ کی گلیوں میں چل کر ہمیں محسوس ہوا
ہم رکھیں جیسے سرِ⚠️ دامنِ گلزار قدم
عمر بھر کرتے رہیں طیبہ کے رستے کا سفر
سنگ اور خار سے ہوتے رہیں ایثار⚠️ قدم
فاصلۂ منزلِ مقصود کا ہے دور بہت
ساتھ تائیدِ خدا ہو تو ہے دو چار قدم
یادِ عباس⚠️ میں کٹ جائیں ہمارے بازو
آگے بڑھتے ہی چلے جائیں وفادار قدم
اسوۂ شاہِ رسل کے ہیں جو پیرو ساجدؔ
چومیے⚠️ اُن کے عقیدت سے پُر انوار قدم