شوقِ فراواں

آنکھیں جھپکتی⚠️ ہیں ماہِ لقا کی جناب میں

ہے التماس شاہِ مدنی⚠️ کی جناب میں

اُمّت کا حال ہے زبوں اے خواجۂ جہاں!

اب ہو دعائے خاص خدا کی جناب میں

اللہ کے کرم سے ملائک ہیں رات دن

حاضر حضورِ سیّدنا کی جناب میں

اُن کے غلام اُن کے ہیں فرماں کے منتظر

کوئی یہ کہہ دے آلِ عبا کی جناب میں

ہوتے ہیں تخت و تاج و حکومت کے فیصلے

محبوبِ ربِّ ارض و سما کی جناب میں

رہتے میں اُن کا کوئی پیمبر نہیں مثیل⚠️

تنہا ہیں آپؐ ربِّ علا کی جناب میں

ساجدؔ کرے گا آج بیاں دل کا ماجرا

اس بادشاہِ لطف و عطا کی جناب میں