شوقِ فراواں

جانبِ شہرِ نبیؐ صلّی علیٰ جاتا ہوں

لِلّٰہ الحمد خوشی سے میں اُڑا جاتا ہوں

یوں تو کتنے ہی معالج ہیں دوا دینے کو

میں درِ شاہ پہ از بہرِ شفا جاتا ہوں

اے خدا! مجھ پہ کرم آلِ عبا کے صدقے

اضطرابِ دل و جاں سے میں مرا⚠️ جاتا ہوں

جونہی آلام کا اک شور سنتا ہے مجھے

بہرِ تسکیں میں مدینے کو چلا جاتا ہوں

پیروی شاہِ رسل کی مرا مقصودِ حیات

لے کے دل میں یہ خیال آگے بڑھا جاتا ہوں

رحمتِ حق مری رہبر ہے کوئی خدشہ نہیں

ہاتھ میں تھامے محبت کا عصا جاتا ہوں

جب سے ساجدؔ ہے مرا وردِ زباں نامِ رسولؐ

صورتِ جامۂ آلودہ دُھلا جاتا ہوں