شوقِ فراواں

با ادب آپؐ سے مہر و مہ و اختر بولیں

اُن کی توصیف میں قدسی و پیمبر بولیں

حق تعالیٰ کا عطا کردہ وہ رعب اور جلال

ہے نہیں حوصلہ وہ آپؐ کے مُنہ پر بولیں

جن و انسان و ملک خور⚠️ جماد اور نبات

شان میں شاہِ جہاں کی وہ برابر بولیں

بحر النجمہ⚠️ الم ذر پہ نبیؐ کے لاریب

سر جھکائے ہوئے دارا و سکندر بولیں

تاجور⚠️ چھوئیں قدم آپؐ کے دریاؤں کے

جو ہوا آپؐ کا آپؐ اس کے مقدّر بولیں

اُن کے بیگانے بھی لیتے ہیں انہیؐ سے خیرات

اُن کے حق میں یہ عدو⚠️ اُن کے نہ کنگر⚠️ بولیں

نعت گوئی ہے کرم آپؐ کا ساجدؔ مجھ پر

آپؐ اگر چاہیں تو بے ساختہ پتھر بولیں