شوقِ فراواں

شہرِ نبیؐ پہ باغِ معطّر⚠️ کا اشتیاق

ہر شخص پر ہے یائیں⚠️ پیکر کا اشتیاق

رحمت کے سلسلے ہیں یہ گیسوئے مصطفیٰؐ

صادق ہے ان پہ نشک⚠️ و عنبر کا اشتیاق

ہم شکلِ نصفِ حسن اور حسین⚠️ میں ہیں

ہوتا ہے ان پہ سیّد و سرور کا اشتیاق

خاموش محو رات دن گہرے خیال میں

ہوتا ہے عارفوں پہ سمندر کا اشتیاق

مظہر ہیں اسمِ ذات کا ہوتا ہے اس لیے

روئے نبیؐ پہ تیز انوار کا اشتیاق

ان سنگِ سنگِ ریزہ ہائے رہِ شاہِ خسن⚠️ پر

کنگر⚠️ نہ ہو زمرّد و گوہر کا اشتیاق

ساجدؔ نبیؐ کے بام پہ جیتے ہیں جو طیور

اُن پر ہے شاہبازوں کے لشکر کا اشتیاق