اُن کی یاد اُن کا خیال

اُن کے جمال و حُسن کی جب گفتگو کریں

پاکِ ادب سے بزم میں مت باؤ ہو کریں ⚠️

مردانِ حق ہیں جام و سبو استعارہ

مستی سے پہلے ہیئتِ جام و سبو کریں

آلائشوں سے شرک کی ہو جان پاک صاف

آبِ زلالِ نور سے دل کا وضو کریں

سینے کا داغ داغ بنا دیں گل و سمن

وہ چاک چاک دامنِ دل کا رفو کریں

وہ خلق کے وکیل وہ حق کی دلیل ہیں

ہم اُن کا ذکرِ حسین چار سُو کریں

روشن ہے کہکشاں کی طرح راہِ مصطفیٰ

عام اس ضیائے پاک کو ہم سُو بسُو کریں

ساجدؔ طہارتِ دل و جاں چاہیے اگر

پاکیزگی فکر و تخیّل کی سُو کریں ⚠️