← اُن کی یاد اُن کا خیال
شاہ کے نام کا جواب نہیں
نور کے جام کا جواب نہیں
ہے کہاں ایسی صبحِ دل افروز
اس حسین شام کا جواب نہیں
اُن کی چشمِ کرم کا ہے فیضان
دل کے آرام کا جواب نہیں
روشنی اُس کی ہے اُفق بہ اُفق
حق کے پیغام کا جواب نہیں
لاکھوں گُلفام سروقد آئے
اُس قد و قام کا جواب نہیں
بے طلب مہربانیاں اُن کی
اُن کے اکرام کا جواب نہیں
مرحبا، شہرِ مصطفیٰ ساجدؔ
اِن در و بام کا جواب نہیں