← اُن کی یاد اُن کا خیال
مرکز میں التفاتِ خدا کا مرے حضور
اللہ، حق کی صورتِ زیبا مرے حضور
اُن سے بہار دل ہے انہی سے قرار جاں
شفقت، کرم، سخا ہیں سرا پا مرے حضور
رحمت سے اُن کی دیدۂ و دل میں ہیں روشنیں
بے حد شفیق ہیں مرے آقا مرے حضور
اُن کا خیال، اُن کا تصوّر ہے دلنگیر
غم کی ہیں ظلمتوں میں اُجالا مرے حضور
پرتو ہیں اسمِ ذات کا، دل کائنات کا
بعد از خدا ہیں اعظم و اعلیٰ مرے حضور
ملجا وہ جن و قدسی و انس و ملک کا ہیں
سب کی پناہ سب کا سہارا مرے حضور
ساجدؔ نہیں وہ اہلِ وفا ہی کے چارہ گر
سارے جہاں کے ہیں مسیحا مرے حضور