← اُن کی یاد اُن کا خیال
"ہوگئی اُن سے محبت ہوگئی"
تھا جو افسانہ حقیقت ہوگئی
گیا پھر سے ہرا ویراں چمن
غم زدہ دل پر عنایت ہوگئی
یادِ اُن کی میرے دل میں بس گئی
مجھ پہ مائل چشمِ رحمت ہوگئی
میرے دل پر چھا گیا اُن کا خیال
اب بھری محفل میں خلوت ہوگئی
بھولتا جاتا ہوں اپنے آپ کو
اور ہی اب میری حالت ہوگئی
جب سے ہوں مصروف اُن کے ذکر میں
دل کو رنج و غم سے فرصت ہو گئی
وہ خیالوں میں ہیں ساجدؔ ہر گھڑی
اب رگِ جاں اُن کی مدحت ہوگئی