← اُن کی یاد اُن کا خیال
دلنگیر اپنا نور خدا ہوگیا
مونسِ جاں، شہِ دوسرا ہوگیا
گریں اُن کی بدولت مری کھل گئیں ⚠️
ہو گیا مجھ پہ فضلِ خدا ہوگیا
جو مقدّر تھا تاریکیوں میں گھرا
اک توجّہ سے جنّت رسا ہوگیا
لب پہ حمد ہے دن رات شکرِ خدا
اُن کے غم میں یہ دل جلا ہوگیا ⚠️
ذکر سے اُن کے جاں میری سرشار ہے
دل مرا بندِ غم سے رہا ہوگیا
مجھ پہ لازم ہے تحدیثِ نعمت کروں
مجھ گدا پر کرم بے بہا ہوگیا
کل جو ساجدؔ اسیرِ غم و دہر تھا
نظمِ رحمت سے وہ کیا سے کیا ہوگیا